بھٹکل 15 اگست (ایس او نیوز) ہر سال کی طرح امسال بھی تعلقہ اسٹڈیم میں یوم آزادی کی تقریب منعقد کی گئی جس میں بھٹکل اسسٹنٹ کمشنر بھرت نے پرچم کشائی کرنے کے بعد آزادی کی جنگ میں حصہ لینے والوں کی خدمات کا تذکرہ کیا اور بتایا کہ آزادی کی جنگ میں کافی بڑی تعداد میں کرناٹک سے تعلق رکھنے والوں نے بھی حصہ لیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ 15 اگست 1947 سے لے کر اب تک ہمارا ملک کئی ایک میدانوں میں کافی ترقی کرچکا ہے، دستور نے تمام ہندوستانیوں کو یکساں حقوق دئے ہیں، انہوں نے ملک کے باشندوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے حقوق کا صحیح استعمال کریں ۔
کویڈ۔19 وبا کا تذکرہ کرتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر بھرت نے آشا کارکنوں، انگن واڑی کارکنوں، ڈاکٹروں، میڈیکل ٹیموں اور محکمہ تحصیل کے آفسران کی خدمات کی ستائش کی اور کہا کہ ان کے ساتھ ساتھ شہر کے کئی ایک لوگوں نے بھی کورونا سے لڑنے کے لئے اپنی خدمات پیش کی جس کی وجہ سے ہم بھٹکل میں کورونا پر قابو پانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تمام سرکاری اداروں اور سماج کے مختلف لوگوں کی کوششوں سے ہی کورونا پر قابو پانا ممکن ہوا ہے۔ انہوں نے کورونا پر قابو پانے میں محکمہ پولس، بھٹکل میونسپالٹی اور جالی پٹن پنچایت سمیت دیگر گرام پنچایتوں کا بھی تذکرہ کیا ، مگر بھٹکل میں کورونا پر قابو پانے میں سب سے زیادہ جس ادارہ نے کام کیا اور اپنے والنٹیرس سمیت کورنٹائن اور کورونا سے متاثرہ لوگوں کو داخل کرنے عمارتوں کا انتظام کیا یہاں تک کہ کورونا کے خلاف لڑنے کےلئے اپنا سرمایہ تک لگایا، اُس قومی سماجی ادارہ مجلس اصلاح و تنظیم کے تعلق سے اُن کی زبان پر ایک لفظ نہیں نکلا۔
تنظیم نے درج کیا سخت احتجاج: یوم آزادی کے موقع پر تعلقہ انتظامیہ کی جانب سے کئی ایک لوگوں کو مختلف میدانوں میں خدمات انجام دینے پر ایوارڈ سے نوازا گیا، مگر اس موقع پر قومی سماجی ادارہ مجلس اصلاح وتنظیم نے ایوارڈ کا بائکاٹ کرتے ہوئے سخت احتجاج درج کیا۔ کئی ایک لوگوں کو ایوارڈ دینے کے بعد سب سے آخر میں جب تنظیم کے بعض والنٹیرس کو اسٹیج پر آنےکے لئے پکارا گیا تو تنظیم کے ذمہ داران آگ بگولہ ہوگئے اور انہوں نے ایوارڈ لینے سے انکار کردیا۔ذمہ داران کو شکایت اس بات کی تھی کہ جن لوگوں کے نام لئے گئے وہ لوگ تنظیم کی طرف سے کام کررہے تھے، اس لئے تنظیم کا نام لینا چاہئے تھا، مگر ادارہ کا نام نظر انداز کرکے بعض لوگوں کے نام پکارے گئے تھے۔
تنظیم کی طرف سے جب نام پکارے گئے والنٹیرس اسٹیج پر نہیں پہنچے تو اسٹیج پر موجود اسسٹنٹ ایس پی مسٹر نکھل اسٹیج سے نیچے اُترآئے اور تنظیم کے ذمہ داروں سے گفتگو کرنے کی کوشش کی جس کے دوران تنظیم کے ذمہ داران نے مسٹرنکھل کو آڑے ہاتھوں لیا ذمہ داران نے بتایا کہ آپ کو خود کو معلوم ہے کہ بھٹکل میں کورونا پر قابو پانے میں سب سے زیادہ کام تنظیم کی طرف سے ہوا ہے، کورنٹائن سینٹر ہو یا کویڈ سینٹر ہو، تنظیم کی طرف سے عمارتیں فراہم کی گئی ہیں، یہاں تک کہ ابھی کوویڈ سے متاثرہ لوگوں کے لئے ایک عارضی کوویڈ کیر سینٹر بھی قائم کیا گیا ہے، مگر اتنا سب کچھ کئے جانے کے باوجود اسسٹنٹ کمشنر یا بھٹکل رکن اسمبلی کی تقریر میں تنظیم کی خدمات کا اعتراف نہ کرنا اور تنظیم کا نام لینے کے بجائے بعض والنٹیرس کو اسٹیج پر ایوارڈ کے لئے پکارنا بالکل غلط ہے۔
اسسٹنٹ ایس پی سے ترش لہجے میں بات کرتے ہوئے عنایت اللہ شاہ بندری نے کہا کہ تنظیم کے والنٹیرس نے چوبیسوں گھنٹے اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر سماجی خدمات انجام دیتے آرہے ہیں ،کٹھن سے کھٹن مراحل میں بھی تعلقہ انتظامیہ کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے انجمن ہاسٹل کو کورینٹین سینٹر تو ویمن سینٹرکو کورونا کیئر سنیٹر کے طور پر سرکار کے حوالے کیا جبکہ حال ہی میں پرائمری کووڈ کیئر سینٹر بھی قائم کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی لاک ڈاؤن میں لوگوں کو میڈیکل سروس فراہم کرنے کےعلاوہ کورونا مریضوں اور کورینٹین سینٹرس میں تینوں وقت کھانے پینے کی اشیاء فراہم کرنے سمیت متاثرین کو اسپتال لانے اور ان کی مکمل دیکھ ریکھ کا بھی کام تنظیم نے کیا ہے اس کے باؤجودبھٹکل اسسٹنٹ کمشنر بھرت اور رکن اسمبلی سنیل نائک نے الگ الگ اداروں کا نام لے کر اُن کی ستائش کی،عنایت اللہ شاہ بندری نے بتایا کہ ہمیں آپ کی واواہی کی ضرورت نہیں ہے، مگر دیگر محکموں کا نام لے کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کرنا کہ جن محکموں کا تذکرہ کیا ہے، اُسی کی وجہ سے کورونا پر قابو پانے میں انتظامیہ کو کامیابی ملی ہے تو یہ تنظیم کے ساتھ نا انصافی ہے۔انہوں نے کہا کہ تعلقہ انتظامیہ نے جان بوجھ کر تنظیم کا نام نہیں لیا حالانکہ بھٹکل تعلقہ انتظامیہ سمیت ریاست کے وزیر اعلیٰ ہوں یاضلع کے انچارج وزیر ہوں ہر ایک کو معلوم ہے کہ تنظیم نے بھٹکل میں کس طرح کی خدمات انجام دی ہیں۔انہوں نے کہا کہ آشاکارکنوں اور مختلف محکموں کا نام لے کر اُن کی خدمات کا تذکرہ کرنا اور صرف تنظیم کا نام نہ لینا یہ ثابت کرتا ہے کہ انتظامیہ نے جان بوجھ کر ایسا کیا ہے۔
عنایت اللہ شاہ بندری کے ساتھ تنظیم کے نائب صدر عتیق الرحمن مُنیری، دیگر ذمہ داران محٰی الدین رکن الدین، عبدالسلام چامنڈی، اسحاق شاہ بندری، عزیز الرحمن رکن الدین و دیگر ذمہ داران نے بھی اے ایس پی کو آڑے ہاتھ لیا۔ انہوں نے کہا کہ تمام لوگوں کے جانے کے بعد آخر میں تنظیم کے چند لوگوں کے ناموں کو لے کر اُنہیں اسٹیج پر آنے کے لئے کہا گیا مگر تنظیم کا نام لے کر خدمات کا اعتراف کرنا تعلقہ انتظامیہ کو گوارہ نہیں ہوا ۔ تنظیم کے ذمہ داران کا کہنا تھا کہ ہم ایوارڈ کے لئے کام نہیں کرتے اور ہمیں انتظامیہ کی طرف سے کسی سرٹی فیکٹ کی بھی ضرورت نہیں ہے، ہمارا ادارہ عوامی خدمت کرتا آیا ہے آئندہ بھی کرتا رہے گا۔
کورونا وباء کے چلتے اس بار یوم آزادی کے موقع پر اسکولی بچوں کی طرف سے مارچ پاسٹ اور دیگر ثقافتی پروگرام نہیں رکھے گئے تھے۔ البتہ ایس ایس ایل سی اور پی یو سی میں نمایاں نمبرات سے کامیاب ہونے والے مختلف طلبہ کی تہنیت کی گئی۔